یہ ایک خطرناک آفت اور عظیم آزمائش ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنے اس قول سے غیبت کا مطلب بیان فرمایا: تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کرنا جو اسے ناپسند ہو، دریافت کیا گیا: آپ کیا فرماتے ہیں اُس قول کے بارے میں جو میرے بھائی میں موجود ہو، (اور اسے بیان کیا جائے) آپ ﷺ نے فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو وہ اس میں موجود ہو تو تم نے غیبت کی، اور اگر اُس میں وہ بات نہ ہو جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اُس پر بہتان لگایا۔
الحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین ، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین …وبعد! مسلمانوں کو اپنی یومیہ زندگی میں جس بات کا سب سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے وہ ہے اپنی تمام حرکات وسکنات میں رسول اکرمﷺ کی سنت پر عمل کرنا اور صبح سے لیکر شام تک اپنی پوری زندگی کو آپ ﷺ کے طریقے کے مطابق منظم کرنا۔ ذو النون المصریؒ کہتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ انسان رسول اللہ ﷺ کی عادات، ان کے افعال، ان کے احکام اور ان کی سنتوں کی پیروی کرے۔ فرمان الٰہی ہے : ’’ قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ ( آل عمران : ۳۱) ’’کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ، نہایت ہی مہربان ہے۔ ‘‘
Comments